بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ پینٹاگون میں خاموشی کا یہ عالم ایک ایسے بحران کا مظہر ہے جہاں "معلومات" کو ہتھیار بنا لیا گیا ہے، صحافیوں کو دشمن، اور سچائی کو قربانی کا بکرا۔ امریکی عوام ایک جنگ دیکھ رہے ہیں، مگر اس کی وسعت، قیمت اور انجام کے حوالے سے انہیں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے؛ اور یہ شاید خود اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان دہ پہلو ہے۔
دوسرا اور آخری حصہ
صدر کے نعرے حقائق سے متصادم ہیں
ٹرمپ مسلسل ایران پر امریکی برتری کے دعوے کرتا ہے اور بارہا "تباہی" کا لفظ استعمال کر چکا ہے۔ فاکس نیوز کی میزبان ماریا بارٹیرومو (Maria Bartiromo) وائٹ ہاؤس کے روایتی بیانیے کو دہراتے ہوئے بھی یہ کہے بغیر نہ رہ سکی کہ:
"مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ایران کیسے لڑ سکتا ہے۔۔۔ جب امریکہ اس کی فوج کو تباہ کر چکا ہے، اور ٹرمپ مسلسل اس دعوے پر اصرار کر رہا ہے۔"
وائٹ ہاؤس کے دعوؤں پر بارٹیرومو کے اس اندھے اعتماد کا سوشل میڈیا پر خوب مذاق اڑایا گیا؛ اور ایک صارف نے طنزاً پوچھا:
"ٹرمپیہ فرقے کے پیروکار کیوںکر اس انداز سے جی سکتے ہیں؟"
حقیقت یہ ہے
کئی امریکی تجزیہ کار اور قانونساز اب تسلیم کر رہے ہیں کہ وائٹ ہاؤس اپنے اعلان کردہ جنگی اہداف میں سے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کر پایا ہے۔ ایران کے خلاف جنگ جاری ہے، مگر پینٹاگون کی خاموشی، شفافیت کا فقدان، اور حقائق پر پردہ پوشی ایک عجیب گھٹن کو جنم دے رہی ہے؛ جیسے جنگ تو ہو رہی ہے، مگر اس کی کہانی سنانے والا کوئی نہیں ہے۔
نتیجہ:
پینٹاگون میں خاموشی کا یہ عالم ایک ایسے بحران کا مظہر ہے جہاں "معلومات" کو ہتھیار بنا لیا گیا ہے، صحافیوں کو دشمن، اور سچائی کو قربانی کا بکرا۔ امریکی عوام ایک جنگ دیکھ رہے ہیں، مگر اس کی وسعت، قیمت اور انجام کے حوالے سے انہیں اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے؛ اور یہ شاید خود اس جنگ کا سب سے بڑا نقصان دہ پہلو ہے۔
نکتے کی بات یہ ہے کہ امریکی عوام کو بیک وقت کئی جنگوں کا سامنا ہے اور یہ جنگیں امریکہ کی بدترین حکومت کے تمام اہلکاروں نے مل کر امریکیوں پر مسلط کر دی ہیں، گوکہ انہوں نے بیرون ملک بھی پورے مغربی ایشیا کو مشتعل رکھا ہؤا ہے۔
ایک سوال جس کا جواب قارئین و صارفین کو خود ہی ڈھونڈنا پڑے گا
ایران کے خلاف جنگ میں ٹرمپ کے بلند بانگ نعرے اور دعوے سب کے سامنے ہیں، وہ تیس سے زیادہ مرتبہ ایران پر فتح پانے اور 60 سے زیادہ مرتبہ ایران کی فوجی طاقت کے مکمل خاتمے کا دعوی کر چکا ہے اور اس کے وزیر خارجہ اور وزیر جنگ نے بھی درجنوں مرتبہ ایسے ہی دعوے دہرائے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ پھر اس پردہپوشی، خاموشی اور اپنے ہی ملک کے مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے خلاف اقدامات کا سبب کیا ہے؟ انہیں کس چیز کی تشویش ہے؟ اور یہ کہ پینٹاگون کا ٹینٹوا دب کیوں گیا ہے؟ کوئی خاص بات ہے کیا؟ کیا یہ جنگ امریکی سلطنت پر منتج نہیں ہو رہی ہے؟ کیا ایران فاتح کے طور نہیں ابھر رہا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد رضا جعفری
تلخیص و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ